Skip to main content

بین الافغان مذاکرات میں تاخیر، کس لئے ؟ Date: 2020-07-08 بین الافغان مذاکرات میں تاخیر، کس لئے ؟ آج کی بات امارت اسلامیہ اور امریکہ نے دوحہ معاہدے میں اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ امارت اسلامیہ اور کابل حکومت کے 5000 + 1000 قیدیوں کا تبادلہ کیا جائے گا اور معاہدے پر دستخط کے دس دن بعد (10 مارچ) کو بین الافغان مذاکرات شروع ہوں گے، لیکن افسوس کہ اس فیصلے کے چار ماہ بعد بھی نہ صرف بین الافغان مذاکرات شروع نہیں ہوئے بلکہ تاخیر کی وجوہات بھی دن بدن بڑھتی جارہی ہیں۔ کابل انتظامیہ کے حکام نے کہا ہے کہ وہ "امارت اسلامیہ اور امریکہ کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت ” پانچ ہزار قیدیوں میں سے چھ سو قیدیوں کو رہا نہیں کریں گے۔ کابل انتظامیہ وقتا فوقتا قیدیوں کے تبادلے میں بہت سی رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی ہے اور اب بھی قیدیوں کی رہائی کےعمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ تاکہ اس کے نتیجے میں بین الافغان مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہوں۔ امن کے ساتھ کابل حکومت کی دشمنی سورج کی طرح واضح ہے کیونکہ اب امن کے لئے جو حالات اور امکانات سازگار ہیں وہ بے مثال ہیں لہذا جو فریق امن کے لئے موجودہ سازگار حالات میں جنگ کا اعلان کرتا ہے، بلا شبہ وہ جنگ کی آگ کو بھڑکانا چاہتا ہے اور افغانستان کی تباہی اور جنگ میں اپنے ناجائز مفادات کے خواہاں ہے۔ امارت اسلامیہ کا قیام بدعنوانی ، جنگ اور جبر کے خاتمے اور ایک منصفانہ نظام کے قیام کے لئے عمل میں لایا گیا تھا۔ ہم اپنے اعلی اہداف کی تکمیل کے لئے پرعزم ہیں، اور تمام ممکنہ ذرائع سے ان اہداف کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں۔ جو فریق امن عمل کی روک تھام کرتا ہے، جنگ کو دوام دیتا ہے اور وطن عزیز پر ناجائز قبضہ برقرار رکھنا چاہتا ہے، وہ جنگ سے متاثرہ قوم کی گرفت سے بری نہیں ہو سکتا اور اس کو عوام کے سامنے جنگ کے تسلسل ، حملہ آوروں کی خدمت، بدعنوانی اور جبر کا حساب دینا ہوگا۔ امارت اسلامیہ نے دوحہ معاہدے پر عمل درآمد کرنے کے لئے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے اور اس کو ثابت کیا ہے، اور اپنی جانب سے شیڈول کے مطابق تمام شرائط کو پورا کیا ہے، لہذا امریکہ کو امارت اسلامیہ کے ساتھ اپنے وعدوں پر قائم رہنا چاہئے اور کسی اور کو معاہدے کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہئے۔ امریکہ قیدیوں کی رہائی سے متعلق کابل حکومت کی عدم دلچسپی سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا ، کیونکہ اسی حکومت کو امریکہ نے تشکیل دیا ، تربیت دی ، اس کی پرورش کی ، اور اب وہ امریکہ کی فوجی ، سیاسی اور معاشی امداد پر قائم ہے۔ اشرف غنی اور ان کے ارد گرد جمع ٹیکنوکریٹس اور جنگ پسند حکام امن اپنے اقتدار اور ذاتی مفادات کے لئے نقصان دہ سمجھتے ہیں، کیونکہ وہ ان عہدوں پر اہلیت اور حب الوطنی کی بنیاد پر فائز نہیں ہوئے بلکہ حملہ آوروں کی خدمت کے بدلے وہ ان عہدوں پر تعینات ہیں، جارحیت کے خاتمے کی صورت میں وہ افغانستان کو اپنا گھر سمجھتے ہیں اور ہی افغان عوام کو حقیقی افغان کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ امریکہ نے 19 برس سے افغان عوام پر اپنے خدمت گاروں کو مسلط کیا تھا، اب اس کھیل کو ختم کرنا ہوگا۔ امارت اسلامیہ کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق جلد از جلد قیدیوں کی متعین تعداد کو رہا کیا جانا چاہئے تاکہ بین الافغان بات چیت کا آغاز ہو اور افغان عوام اپنی مرضی سے اسلامی حکومت تشکیل دے سکیں۔

Item Preview

SIMILAR ITEMS (based on metadata)