Skip to main content

افغانستان، سعودیہ اور یمن کے بعد صومالیہ کے مجاہدین کا تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود کی شہادت پر تعزیتی بیان خاص رپورٹ: انصار اللہ اردو افغانستان، سعودیہ اور یمن کے مجاہدین کے بعد صومالیہ کے چار صوبوں میں امارت اسلامیہ کا قیام کرنے والی حرکت شباب المجاہدین نے تحریک طالبان پاکستان کے امیر حکیم اللہ محسود رحمہ اللہ کی شہادت سے متعلق امت مسلمہ کے نام ایک تعزیتی بیان جاری کیا۔ انصار اللہ اردو صومالیہ میں عالمی جہادی تحریک القاعدۃ الجہاد سے وابستہ شاخ ’’تحریک شباب المجاہدین‘‘ کے اس تعزیتی بیان کا مکمل متن کا اردو ترجمہ پیش کرتا ہے، جو یہ ہے: بسم الله الرحمن الرحيم حرکت شباب المجاہدین قیادت عامہ امت اسلام کے لیے مبارکباد اور تعزیتی بیان قائد حکیم اللہ محسود - رحمہ الله کی شہادت کی بابت اللہ تعالی ان پر رحم کرے بیان کا متن بسم اللہ الرحمن الرحیم || حکیم اللہ محسود - اللہ ان کو قبول کرے - کے شہید ہوجانے پر امت کے نام تعزیتی بیان || اللہ تعالی نے فرمایا: "وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ﴿169﴾ فَرِحِينَ بِمَا آتَاهُمُ اللَّهُ مِنْ فَضْلِهِ وَيَسْتَبْشِرُونَ بِالَّذِينَ لَمْ يَلْحَقُوا بِهِمْ مِنْ خَلْفِهِمْ أَلَّا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ﴿170﴾ يَسْتَبْشِرُونَ بِنِعْمَةٍ مِنَ اللَّهِ وَفَضْلٍ وَأَنَّ اللَّهَ لَا يُضِيعُ أَجْرَ اْمُؤْمِنِينَ ﴿171﴾" [آل عمران]. ’’جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے گئے ان کوتم مردہ نہ سمجھو (وہ مرے ہوئے نہیں ہیں) بلکہ اللہ کے نزدیک زندہ ہیں اور ان کو رزق مل رہا ہے۔ وہ ان (نعمتوں) پر فرحاں و شاداں رہتے ہیں جو اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا فرما رکھی ہیں اور اور جو لوگ ان کے پیچھے رہ گئے اور( شہید ہوکر) ان میں شامل نہیں ہوسکے ان کی نسبت خوشیاں منا رہے ہیں کہ ان کو بھی نہ کچھ خوف ہوگا اور نہ وہ غمناک ہوں گے۔ وہ اللہ کی نعمت اور فضل سےخوش ہوتے ہیں اوراس پر (بھی) کہ اللہ ایمان والوں کا اجر ضائع نہیں فرماتا۔‘‘(آل عمران:169-171) تمام تعریفیں اللہ ہی کے لئے ہیں۔ الله ہی کے لئے ہے جو اس نے لیا، اور اسی کا ہے جو اس نے دیا، اور ہر چیز کا ایک وقت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی ہے اور پھر اپنی مخلوقات میں سے برگزیدہ پسندیدہ پیغمبر منتخب کئے ہیں، اور ان پیغمبروں کے لئے اللہ تعالیٰ نے پیرو اور انصار(معاون) پیدا کئے ہیں، جو اجتماعی اور انفرادی طور پر ان کے ارشادات کو لیتے اور ان کی سنتوں کی تابعداری کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نےاپنے انبیاء کے حواریوں میں سے شہداء چن لئے ہیں، جن کا انتخاب وہ خود کرتا ہے، اور پھر ان کا اکرام ایسی نعمتوں سے کرتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتیں، اور ایسی جنتوں سے جو کبھی فنا نہیں ہونگیں، اور جو ان ہم عمر حوروں سے ۔ ان شہداء پر انبیاء، صدیقین اور صالحین رشک کر تے ہیں، اس فضل واحسان کی وجہ سے جو انہوں نےاپنے رب کے ہاں پالیا ہے۔ ایسے ہی (شہداء) لوگوں میں شمولیت اختیار کرنے اور ان کے قافلے کے ساتھ جاملنے کےلئے اسلام کے شہسواروں میں سے ایک شہسوار اور توحید کے شیروں میں سے ایک شیر کچھ ہی عرصہ پہلے چل پڑا؛ بعد اس کے کہ انہوں نے جہاد کی آگ بھڑکائی اور اس کی تپش سے سرکش ظالموں کو جلادیا، یہ اسلام کے بطل (ہیرو) حکیم اللہ محسود تھے، جو شیر اسلام بیت اللہ محسود کے جگری بھائی اور ان کے بعد ان کے بننے والے جانشین تھے، اللہ تعالیٰ ان کو علیین میں قبول فرمائے اور جہانوں میں ان کا درجہ بلند فرمائے۔ أتته المنايا حين تمّ تمامه * وأقصر عنه كل قرن يطاوله وكان كليث الغاب يحمي عرينه * وترضى به أشبالها وخلائله غضوب حليم حين يطلب حلمه * وسمّ زعاف لا تصاب مقاتله ’’اسے موت اس وقت آئی جب اس کا وقت پورا ہوچکا * اور اس سے مقابلہ کرنے والے اس کے مدمقابل موجود تمام ہم پلہ اس کا سامنے آنے سے کترانے لگے وہ جنگل کے شیر کی طرح اپنے پچھار کی حفاظت کرتا تھا * اور اس کے بہادر بیٹے اور دوست اس سے خوش وخرم تھے وہ غصہ ور اور بردبار تھا کہ جب اس سے بردباری کا تقاضہ کیا جاتا * اور قتل کرنے کے وقت ایسا وار کرنے والا تھا کہ جسے لگتا وہ زخمی بھی نہیں ہوتا (یعنی فوراً ہی مرجاتا)۔‘‘ ہم یہاں اس موقع پر امیر المؤمنین ملامحمد عمر مجاہد اور حکیم الامت شیخ ایمن الظواہری حفظہم اللہ، امت اسلامیہ سے عموماً اور مجاہدین سے خصوصاً ان کے بیٹے حکیم اللہ محسود کی شہادت سے پہنچنے والے صدمہ اور تکلیف پر تعزیت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی شہادت قبول فرمائے۔ دنیا بھر میں دشمنان اسلام کے لیے ہمارا پیغام یہ ہے کہ اللہ کا دین غالب آکر رہے گا، اگر چہ اس کیخلاف تمہاری تمام قومیں مل کر ہی کیوں نہ ٹوٹ پڑیں ہیں اور اسلام کے قائدین اور نوجوانوں کو شہید کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی خاطر کوشاں ہی کیوں نہ ہیں۔ ایسا اس وجہ سے ہوگا کیونکہ ان شہداء کا خون آگ اور روشنی ہے کہ جو اندھیروں میں سفر کرنے والوں کے لئے روشنی فراہم کرتا ہے جبکہ اس کی آگ دشمنانِ دین کو جلاکر بھسم کرنے کا باعث بنتی ہے۔ وقت نے بھی تمہارے سامنے ثابت کردیا ہے کہ ہمارے قائدین کی شہادت ہمارے لیے دین کو مضبوطی سے تھامنے میں مزید پختہ ارادے کے ساتھ پرعزم ہونے اور مسلمانوں کے دشمنوں کا مقابلہ دلیری سے کرنے میں مزید شدت اختیار کرنے کا باعث بنتی ہے۔ سو (ہم میں سے) جیسے ہی کوئی ایک قائد شہید ہوتا ہے تو دوسرا اس کی جگہ پر اس انداز میں کھڑا ہوجاتا ہے کہ گویا کہ یہ وہی پہلا والا ہی ہے۔ اللهم انصرنا ولا تنصر علينا وامكر لنا ولا تمكر علينا، اللهم اجعلنا لك مطواعين، لك رهّابين، إليك منيبين أوّابين، وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على أشرف المرسلين محمد وعلى آله وصحبه أجمعين. اے اللہ ! ہماری مدد فرما اور ہمارے خلاف مدد نہ کر، ہمارے لیے تدبیر چل اور ہمارے خلاف تدبیر نہ چل۔ اے اللہ! ہمیں صرف تیرا فرمانبردار رہنے والا بنادے، جو صرف تجھ ہی سے لو لگانے والے اور تیری ہی طرف رجوع کرنے والے ہوں۔ ہماری آخری بات یہ ہے کہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ دروردوسلام ہو تمام پیغمبروں کی سب سے زیادہ برگزیدہ ہستی جناب محمد، آپ کے آل پر اور آپ کے تمام ساتھیوں پر۔ حرکۃ شباب المجاہدین کی قیادت عامہ ادارہ الکتائب برائے نشر واشاعت ہمیں اپنی نیک دعاؤں میں یادرکھیں .. محرم 1435 ھ بمطابق نومبر 2013

Item Preview

This item is only available to logged in Internet Archive users

Log in
Create an Internet Archive account

SIMILAR ITEMS (based on metadata)