Skip to main content

مفتی نور ولی (المعروف ابو منصور عاصم) اور اراکینِ شوریٰ کا علمائے پاکستان کے نام خط من جانب: امیرِ تحریکِ طالبان پاکستان “مفتی نور ولی المعروف ابو منصور عاصم اور اراکینِ شوریٰ” بسم اللہ الرحمن الرحیم إلى فضیلة المعالى……………………………………(حفظك الله ورعاك) السلام علیكم ورحمۃ اللہ وبركاتہ جیساكہ آپ حضرات كو معلوم ہے كہ گیارہ ستمبر 2001ء كے بعد امریكہ اور اس كے اتحادیوں نے دنیا كى واحد اسلامی حكومت اسلامی امارت افغانستان پر حملہ كیا، افواجِ پاكستان اور خفیہ اداروں نے عالمی كفری اتحاد كا ساتھ دیكر امارت اسلامی كى حكومت كو گرانے اور مجاہدین اسلام كو شہید یاگرفتار كركے امریكہ كو ڈالر کے عوض فروخت كرنے میں كلیدی كردار ادا كرنا شروع كیا، حتى كہ بچوں اور خواتین تك صلیبیوں كے ہاتھوں بیچ ڈالا، سابق صدر ، چيف ایگزیكٹو جنرل پرويز مشرف نے خود اس كا اعتراف كيا ہے۔ پاكستان سمیت پوری دنیا كے اہلِ حق علماء كرام كے شرعى فتاوى كى روشنى میں ڈیورنڈ لائن كے آس پاس آباد آزاد قبائل (جو كہ اصولاً نہ پاكستان كا حصہ ہیں نہ افغانستان كا، بلكہ ڈیورنڈ معاہدے كے تناظر میں دونوں ممالك كے درمیان حدِ فاصل ہے، ان آزاد مسلمان قبائل) نے طالبان كى نصرت اور تعاون دینی فريضہ سمجھ كر شروع كى اور امریكہ كے خلاف دفاعاً علَمِ جہاد بلند كیا۔ الحمد للہ!قبائل ہی سے جارى دفاعی جہاد كی ابتدا ہوئی، جہادی ماحول مہیا ہوا، امریكہ اور اس كے اتحادیوں كے خلاف استشہادی حملے شروع ہوئے۔ افواجِ پاكستان نے عالمِ كفر كو مزید خوش كرنے كے لیے اور عالمی كفری نظام كو مزید مستحكم كرنے كے لیے قبائل پر یلغار كركے آپریشنوں كا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع كیا، علماء دیوبند (كثر اللہ سوادهم) سے تعلق ركھنے والے پانچ سو جید علماء كرام اور مؤقر دینی اداروں نے فوج كے اس اقدام كے خلاف فتوى جاری كیا، جس میں واضح طور پر لكھا كہ قبائلی مجاہدین كو اپنے دفاع كا حق حاصل ہے، اور یہ بھی لكھا كہ ان آپریشنوں میں جو فوجى شریك ہوگا تو وہ كبیرہ گناہ كا مرتكب ہوگا اور اگر اس كى موت واقع ہوجائے تو وہ ہرگز شہید نہیں كہلائے گا، جہاں تك ایسے لوگوں كى موت واقع ہونے كى صورت میں نماز جنازہ پڑھانے اور اس میں لوگوں كے شریك ہونے كا تعلق ہے تو ایك مسلمان كى غیرت، حمیت اور دینى جذبے كا تقاضا یہ ہے كہ ایسے لوگوں كى نمازِ جنازہ میں بھى كوئى شریك نہ ہو۔اور ایسے تمام افراد جو اِن ظالمانہ فوجى كاروائیوں میں مارے جائیں چونكہ شرعاً وہ معصوم اور بے گناہ ہیں، لہذا شرعاً وہ شہید ہوں گے۔ ہم نے اكابر اہلِ حق علماء كرام كے فتوىٰ كی روشنی میں مجبورًا اپنا رخ افواجِ پاكستان اور خفیہ اداروں كی طرف پھیر دیا، اورافغانستان سمیت پاكستان میں بھی دفاعی جہاد كا محاذ كھول دیا۔ ہم نے خروج كا مسئلہ نہ چھیڑا ہے اور نہ اس كو سوچا ہے، ہم نے دفاعاً افواجِ پاكستان كے خلاف اپنے اكابر اور اساتذہ كرام كے فتاوى كی روشنی میں مقدس دفاعی جہاد شروع كیا، جو كہ تا حال جاری ہے اور اپنے شرعی اہداف كے حصول تك جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔ پیغامِ پاكستان اور دیگر اعلامیوں میں ہمارے خلاف جو موقف اختیار كیا گیا ہے وہ مبنی بر انصاف نہیں۔ جب بھی پاكستان كی قابض افواج پر حملے تیز ہو جاتے ہیں تو اىسى حالت میں ہمارے متعلق كوئى نہ كوئى ایسا موقف اختیار كیا جاتا ہے، جس كی نسبت ہماری طرف صحیح نہیں ہوتى۔ ہم نے كوئی تفرّد یا تجدّد اختیار نہیں كیا ہے، بلكہ اپنے اساتذہ كرام اور اكابر عظام (دامت بركاتهم العالية) كےفتاوىٰ، ترغیب وتحریض كی روشنی میں رواں مقدس دفاعی جہاد شروع كیا ہے۔ ملك میں مصروف ومشغول دیگر اسلامی تحریكوں كو ہم مثبت نظر سے دیكھتے ہیں، ان كی ترقی اور قوت سے الحمد للہ ہم خوش ہیں۔ اسلامی تحریكیں اور بالخصوص علماء حق (علماء دیوبند، كثر الله سوادهم) سے وابستہ جماعتوں كی ہم آہنگی، وحدت اور ایك جھنڈے تلے جمع ہونا، اسلامی اقدار كو بچانے اور اسلامی نظام تك پہنچنے كے لیے ہم نہایت ضروری سمجھتے ہیں۔ پاكستان پر قابض خفیہ ٹولہ كسی بھی صورت برداشت نہیں كر سكتا كہ علماء حق كی قیادت میں مسلمانانِ پاكستان متفق ومتحد ہوں، بلكہ وہ اہل حق كی وحدت،اتفاق اور قوت كو اپنے ناجائز قبضے، تسلط اور لا دینیت كے لیے نہایت خطرہ سمجھتا ہے۔ اہلِ حق میں سے جس عالمِ دین كا بھی معاشرے میں اثر ونفوذ بڑھتا ہے، انہى خفیہ ہاتھوں كى كوشش ہوتى ہے كہ زبردستی اسے زیرِ اثر لائیں، ورنہ اسے شہید كرنا ان كے بائیں ہاتھ كا كھیل ہوتا ہے، اور ایسے اہلِ حق علماء كرام كى شہادتوں كی ایك طویل فہرست ہے۔ مثلاً شہيد اسلام مولانا يوسف لدھيانوى، شیخ الحدیث مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، استاذ الحدیث مفتی عتیق الرحمن، مفسّرِ قرآن مولانا اسلم شیخوپوری، شیخ القرآن مولانا ولی اللہ كابلگرامی، شیخ الحدیث مولانا سلطان غنی عارف، استاذ الحدیث مولانا شیخ نصیب خان ، شیخ الحدیث مولانا حسن جان ، شیخ الحدیث مولانا سمیع الحق، مولانا معراج الدین، مولانا محسن شاہ، مولانا محمد حنیف وغیرہم (رحمهم اللہ)۔ جناب محترم! ان خفیہ اسلام دشمن ہاتھوں نے اپنے بعض ایجنٹوں كے ذریعے ہمیشہ كوشش كی ہے كہ مجاہدینِ اسلام اور اكابر علماء كے درمیان بُعد اور فاصلے پیدا كریں۔ ہمارے ديوبندى مدارس اور مكتبہ فكر كى طرف منسوب بعض اربابِ مدارس اور شخصيات (جو دينى حلقوں ميں بھى خفيہ اداروں كے اہلِ كار سمجھے جاتے ہيں) كوشش كرتے ہيں كہ مجاہدينِ اسلام اور علماء حق كے درميان بُعد وفاصلے ہوں، جبكہ يہ مجموعى طور پر اہل حق كى اجتماعیت كے ليے سودمند نہيں ہے۔ اسى ہدف كے حصول كے لیے اپنے فتنہپرور ایجنٹوں كو مجاہدین اسلام كی صفوں میں شامل كراكے جہادی صف كو غلط استعمال كرنا شروع كیا، ان كم بدختوں كے خلاف ہم نے مضبوط قدم اٹھا كر بہت ساروں كو اپنے انجام تك پہنچایا، مولانا معراج الدین صاحب اور مولانا محسن شاہ صاحب (رحمهما اللہ) كے قاتلوں كو كیفرِ كردار تك پہنچانا اس سلسلے كى ايك كڑى تھى۔ وہ فتنہ باز ٹولہ یا تو سرنڈری كے نام پر دوبارہ افواجِ پاكستان كی گود میں چلا گیا اور یا خارجی افكار كى حامل جماعت (داعش) كے یہاں چلا گیا۔ بہر حال! ہم اس بات كی دوبارہ وضاحت كرتے ہیں كہ ہم نے اپنے اساتذہ كرام اور اكابر عظام كے فتاوى سے رواں مقدس جہاد شروع كیا تھا، اور الحمد لله! معاصر جہادی تحریكات میں صرف ہمارى جہادى تحريك كو یہ امتیاز حاصل ہے كہ پانچ سو جید علماء كرام اور مؤقر دینی اداروں نے بدون ہمارے استفتاء كے ہمارے حق ميں دفاعی جہاد كے حوالے سےمدلّل فتوى دیا ہے۔ (جزاهم اللہ خیراً) ہماری آپ حضرات سے استدعا یہ ہےکہ آپ ہمارے بڑے ہیں، ہم سب نے آپ حضرات کے مشرب سے پیا ہے، ہمارے عقیدے اور نظرئے کے استاد آپ حضرات ہی ہیں، موجودہ جہاد ی سفر آپ لوگوں کے فتوؤں کی روشنی میں ہم نے شروع کر رکھا ہے، آپ حضرات نے ہمیں فتویٰ دیا کہ افغانستان میں جہاد فرضِ عین ہے، ہم نے امر کی تعمیل میں جانوں کے نظرانے پیش کئے، آپ حضرات نے فرمایا کہ پاکستان کا قبائل میں آپریشن نا جا ئز اور حرام ہے اور قبائل کو دفاع کا شرعی حق حاصل ہے، ہم نے پاکستانی فوج سے اپنا دفاع شروع کیا، جو آج تک جاری ہے، اب اس قسم کے جہادمیں کسی کو کیا تامل ہے؟اس دفاعی جہاد کو ریاست کے خلاف مسلح خروج کا رنگ دے کر غیر شرعی قرار دینا، اور اس بنا پر ہمارے خلاف خوارج کے فتوے صادر کرنا اور پیغامِ پاکستان مرتب کرنا، جس میں اس غدار فوج کو پاکستان کا محافظ اور پاسبان ثابت کرنا (جس کے خلاف آپ حضرات ہی نے ہمیں لڑنے کا فتویٰ دیا تھا )اورہمیں پاکستان کے دشمن اور غدار ثابت کرنا (حالانکہ ہم نے آپ حضرات ہی کے فتوے پر اپنا سب کچھ لٹا دیا) یقیناً ہمارے ساتھ نا انصافی، اور ہمارے لئےباعثِ شکوہ ہے۔ہم نے ابھی تک پاکستان میں مسلح خروج کی بات چھیڑی ہی نہیں ہے، ابھی تک تو ہم اپنے دفاع کی بات کر رہے ہیں، جس کا فتویٰ آپ حضرات نے دیا ہے، پھر ہم پر انڈیا کے ایجنٹ کا فتویٰ لگا نا، یقیناً ہمارے ساتھ زیادتی ہے۔ حضرات کرام!اگر آپ حضرات کو اپنے فتوؤں میں کوئی غلطی نظر آئی ہو، یا ہمارا کردار ان فتوؤں کے خلاف نظر آرہا ہو، تو آپ ہمارے بڑے ہیں، ہمارے راہنما ہیں۔ آئیے! ہماری اصلاح کیجئے، ہمیں مطمئن کیجئے، یہ ہم لوگ آپ حضرات کے ذمے اپنا شرعی حق سمجھتے ہیں۔جس طرح آپ حضرات نے ہمیں مطمئن کر کے جہاد شروع کراوایا تھا اسی طرح آج ہمیں مطمئن کرکے جہاد رُکوائیں، جب آپ حضرات ہمیں شرعی دلا ئل سے مطمئن کریں گے تو آپ پھر اہل حق مجاہدین کی اطا عت کا نظارہ اپنی آ نکھوں سے کریں گے(انشاء اللہ) کیو نکہ ہمیں اللہ تعا لی کا حکم ہے: ﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَاَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَاُولِى الْاَمْرِ مِنْكُمْ ج فَاِنْ تَنَازَعْتُمْ فِىْ شَىْءٍ فَرُدُّوْهُ اِلَى اللّٰهِ وَالرَّسُوْلِ اِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ط ذٰلِكَ خَيْرٌ وَّاَحْسَنُ تَاْوِيْلًا﴾ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَابْنِ عَبَّاسٍ رِوَايَةٌ وَالْحَسَنُ وَعَطَاءٌ وَمُجَاهِدٌ: أَنَّهُمْ أولوا الْفِقْهِ وَالْعِلْمِ۔۔۔۔۔۔۔۔ وَالْعُلَمَاءَ يَلُونَ حِفْظَ الشَّرِيعَةِ وَمَا يَجُوزُ مِمَّا لَا يَجُوزُ، فَأَمَرَ النَّاسَ بِطَاعَتِهِمْ وَالْقَبُولَ مِنْهُمْ مَا عَدَلَ الْأُمَرَاءُ وَالْحُكَّامُ، وَكَانَ الْعُلَمَاءُ عُدُولًا مَرْضِيِّينَ مَوْثُوقًا بِدِينِهِمْ وَأَمَانَتِهِمْ فِيمَا يؤدون، وهو نظير قوله تعالى ﴿فَسْـَٔلُوْۤا اَهْلَ الذِّكْرِ اِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ﴾(احکام القرآن للجصاص) لیکن اگر ہمیں اپنا دفاعی حق حاصل ہے، پاکستان ظالم اور ہم مظلوم ہیں، اور پاکستان کو ظالم اور خطا کہنے میں آپ حضرات کی مجبوری ہو، اور ہمیں مطمئن کرنا بھی آپ حضرات کی بس میں نہ ہو، تو خدا را!ہمیں اپنے شاگرد، اپنے چھوٹے سمجھ کر ہمارے اوپر کم از کم”خارجیت، انڈیا کے ایجنٹ، ملک کے غدار”جیسے فتوے تو نہ لگائیں، کیونکہ یہ تو مشاہدے کی بات ہے کہ جب “پی، ٹی، ایم” نے حقوق کی بات کی تو اس پر ملک دُشمن اور انڈیا ایجنٹ کا ٹپہ لگانے کی کوشش کی گئی، اب حال میں جب آپ حضرات اپنے حقوق کے دفاع کی بات کر رہے ہیں آپ حضرات پر بھی ملک کو غیرمستحکم کرنے، ملک میں انتشار پیدا کرنے وغیرہ کے ٹپے لگ رہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ دُشمن تو ہمیں جو بھی کہے کہنے دیجئے کہ دُشمن کا تو کام ہی برا بھلا کہنا ہوتا ہے، کم ازکم ہم تو ایک دوسرے کو بدنام نہ کریں، ہم تو ایک دوسرے کو ناکام کرنے کی کوشش نہ کریں، کہ اس سے براہ راست اسلام دُشمن قوتوں کو فائدہ پہنچتا ہے۔ بہر حال! آپ ہمارے بڑے ہیں، ہم آپ حضرات کو کیا مشورہ دیں گے، صرف اپنا شکوہ شکایت ہی آپ حضرات تک پہنچا سکتے ہیں۔آپ ہماے بڑے ہیں، آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ ہمارے درمیان اگر اس قدر تناؤ ہو، اس قدر نفرت ہو، ایک دوسرے پر کفر اور خارجیت کے فتوؤں کی فضا ہو، تو اس کا ہم پر اور پوری امتِ مسلمہ پر کیا اثر ہو گا ؟اور دُشمن ہمارے اس اختلاف سے کتنا فائدہ اُٹھا ئے گا ؟ سوئے ادبی معاف! آج علماء اور مجاہدین کا ایک دوسرے کے خلاف کفر، ارتداد اور خارجیت کے فتوے، مجاہدین کے بیس میں اداروں کے اور خارجی ذہنیت رکھنے والے مجاہدین کےیہ قاتلانا حملے، یہ سب کچھ ان غلط فہمیوں کا نتیجہ ہے اور یہ غلط فہمیاں عدم ِ ربط کا ثمرہ ہے کہ آج استاد شاگرد دست و گریباں ہو پڑے ہیں، اور اغیار تماشہ دیکھ رہےہیں۔ البتہ یہ بات یاد رکھی جائے کہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگی اہداف میں مذہبی سیا سی اور غیر سیاسی مذ ہبی جما عتیں شا مل نہیں۔ کیونکہ یہ ٹکراؤ عا لم اسلام کے مفاد میں نہیں۔ ہاں! اگر کو ئی ہمارے اس مقدس دفا عی جہاد میں ہمارے لئے رکا وٹ بن جائے اور ہمارے دشمن کا ساتھ حقیقتاً یامعنیً، اجتماعاً یا انفراداً دے توازروئے شرع اس کا حکم ہمارے دشمن جیسا ہے۔لیکن پھر بھی ہم ایسے لوگوں سے نظریں چراتے ہیں۔ محترم حضرات! ایک بار پھرہم نہایت ہی انکساری کے ساتھ درخواست کرتےہیں کہ آپ ہمارے بڑے اور استاد ہیں، آپ ہمیں ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرائیں، ہماری راہنمائی فرمائیں، ان شاء اللہ ہمیں تابعدار پائیں گے۔ہاں! اگرآپ حضرات کی مجبوری ہو تو خدا را! شاگردی استادی کا واسطہ دیتے ہیں کہ ہمارے اوپر خارجیت، ملک دُشمن وغیرہ جیسے الزام نہ لگائیں، ہم آپ حضرات کے بڑے مشکور رہیں گے۔ آخر میں ہم مفتی نظام الدین شامزئی شہیدؒ سے لے کر آج مولانامحمد حنیف شہیدؒ تک کے تمام شہداء کی تعزیت کرتے ہیں۔ والسلام مفتی نور ولی( ابو منصورعاصم)اور اراکینِ شوریٰ

Item Preview

This item is only available to logged in Internet Archive users

Log in
Create an Internet Archive account

SIMILAR ITEMS (based on metadata)