Skip to main content

قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کو بند کیا جائے ورنہ ۔۔۔۔۔ umar 20th جنوری 2020 0 تبصرے قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی سلوک کو بند کیا جائے ورنہ ۔۔۔۔۔ اسلام سراپا رحمت اور شفقت ہے، اس مذہب میں عدل واحسان کی بارہا تاکید کی گئی ہے اور یہی اس مذہب کی روح ہے، ظلم وزیادتی، ناحق مارپیٹ، ستانا اور کسی کو خواہ مخواہ پریشان کرنا، اس مذہب میں جائز نہیں، اسلام کی نظرمیں کسی امیر کو غریب کے ساتھ ناروا سلوک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور نہ ہی کسی صاحبِ طاقت کو بے کس اور کمزوروں پر اپنی طاقت استعمال کرنے کا حق دیا گیا ہے،یہاں تک کہ بے زبان جانوروں پر شفقت اور رحمت کا حکم دیا گیا ہے۔ چوری، قتل وغارت گری،زنا کاری، شراب نوشی، ظلم وزیادتی اور اس طرح کے دیگر جرائم یقینا اسلام کی نظر میں بھی انتہائی شنیع اور قابل مذمت ہیں، ان کے مرتکبین سخت سے سخت سزا کے مستحق ہیں، لیکن شریعت نے اس کے بھی حد و د متعین کیے ہیں اور ان میں اہم چیز انسانیت کا احترام ہے، ہر وہ سزا جس سے آدمیت کی توہین ہوتی ہو جائز نہیں ہے ۔ اسیرانِ بدر میں ایک شخص سہیل بن عمرو تھا جو نہایت فصیح اللسان تھا اور عام مجمعوں میں محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تقریر یں کیا کرتاتھا، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: یارسول اللہ !اس کے دونیچے کے دانت اکھڑوادیجئے کہ پھر اچھا نہ بول سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اگر اس کے عضو بگاڑوں تو گونبی ہوں، لیکن خدا اس کی جزاء میں میرے اعضاء بھی بگاڑے گا ۔ (تاریخ طبری صفحہ۱۳۴۴) جن دنوں میں بنو قریظہ کے قیدیوں کو قید کیا گیا تھا، وہ گرمی کے ایام تھے، تپش زیادہ تھی،اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور خاص دن کی گرمی اور دھوپ میں قیلولہ کے لیے مواقع فراہم کرنے کی تاکید فرمائی،کیوں کہ گرمی کے ایام میں قیدیوں کی گرمی کا خیال نہ رکھنا، انھیں دھوپ میں چھوڑ دینا، بلکہ آرام کا موقع نہ دینا بھی غیر انسانی حرکت ہے اور قیدیوں کے ساتھ غیرانسانی حرکت جائز نہیں ۔ معلوم ہوا کہ قیدیوں کو الیکٹرک شاٹ لگانا، قیدیوں پر کتے چھوڑنا، قیدیوں کو سخت ٹھنڈک میں برف کی سلوں پر ڈال دینا، حدسے زیادہ مار پیٹ کرنا،مسلسل جاگے رہنے پر مجبور کرنا، یا ان کی جائے رہائش میں تیز روشنی یا تیز آواز کا انتظام کرنا، شرعا درست نہیں ہے ۔ مگر افسوس کے مدینہ ثانی کے دعویدار ملک پاکستان میں قیدیوں کے ساتھ غیراسلامی نہیں،بلکہ غیرانسانی رویہ اختیار کیا جارہا ہے ان کے ظلم وبربریت کے ویڈیوز بھی اگرچہ سوشل اور الیکٹرانک میڈیا پر وائرل ہورہی ہیں مگر کسی بھی صاحب اقتدار ، صاحب طاقت بشمول علماء کو ذرہ برابر بھی پرواہ نہیں ۔۔ کوئٹہ سنٹرل جیل میں جو آج کل ہورہا ہے، قیدیوں کے ساتھ وہ سراسر ظلم ہے تحریک طا لبا ن پاکستان کے مجاہدین ان مظلوم قیدیوں کو تسلی دیتے ہوئے متعلقہ افراد کو متنبہ کرتے ہیں کہ کوئٹہ سنٹرل جیل سمیت پاکستان کے بیشتر جیلوں میں اس قسم کے ناروا سلوک کو بند کیا جائے ورنہ ان قیدیوں کی حمایت ومدد اور ظلم سے نجات دلانے میں ہم کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ۔۔۔ محمد خراسانی مرکزی ترجمان تحر یک طا لبا ن پاکستان

Item Preview

This item is only available to logged in Internet Archive users

Log in
Create an Internet Archive account

SIMILAR ITEMS (based on metadata)